2:03 PM

سورة الحاقة

Posted by Ali

سورة الحاقة
شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
سچ مچ ہونے والی ﴿۱وہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟ ﴿۲اور تم کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟ ﴿۳کھڑکھڑانے والی (جس) کو ثمود اور عاد (دونوں) نے جھٹلایا ﴿٤سو ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیئے گئے ﴿۵رہے عاد تو ان کا نہایت تیز آندھی سے ستیاناس کردیا گیا ﴿٦خدا نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا تو (اے مخاطب) تو لوگوں کو اس میں (اس طرح) ڈھئے (اور مرے) پڑے دیکھے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ﴿۷بھلا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟ ﴿۸اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے ﴿۹انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کی نافرمانی کی تو خدا نے بھی ان کو بڑا سخت پکڑا ﴿۱۰جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم (لوگوں )کو کشتی میں سوار کرلیا ﴿۱۱تاکہ اس کو تمہارے لئے یادگار بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں ﴿۱۲تو جب صور میں ایک (بار) پھونک مار دی جائے گی ﴿۱۳اور زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا لئے جائیں گے۔ پھر ایک بارگی توڑ پھوڑ کر برابر کردیئے جائیں گے ﴿۱٤تو اس روز ہو پڑنے والی (یعنی قیامت) ہو پڑے گی ﴿۱۵اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن کمزور ہوگا ﴿۱٦اور فرشتے اس کے کناروں پر (اُتر آئیں گے) اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اپنے سروں پر اُٹھائے ہوں گے ﴿۱۷اس روز تم (سب لوگوں کے سامنے) پیش کئے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی ﴿۱۸تو جس کا (اعمال) نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں سے) کہے گا کہ لیجیئے میرا نامہ (اعمال) پڑھیئے ﴿۱۹مجھے یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب (کتاب) ضرور ملے گا ﴿۲۰پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا ﴿۲۱(یعنی) اونچے (اونچے محلوں) کے باغ میں ﴿۲۲جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے ﴿۲۳جو (عمل) تم ایام گزشتہ میں آگے بھیج چکے ہو اس کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو ﴿۲٤اور جس کا نامہ (اعمال) اس کے بائیں ہاتھ میں یاد جائے گا وہ کہے گا اے کاش مجھ کو میرا (اعمال) نامہ نہ دیا جاتا ﴿۲۵اور مجھے معلوم نہ ہو کہ میرا حساب کیا ہے ﴿۲٦اے کاش موت (ابد الاآباد کے لئے میرا کام) تمام کرچکی ہوتی ﴿۲۷آج) میرا مال میرے کچھ بھی کام بھی نہ آیا ﴿۲۸(ہائے) میری سلطنت خاک میں مل گئی ﴿۲۹(حکم ہوگا کہ) اسے پکڑ لو اور طوق پہنا دو ﴿۳۰پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دو ﴿۳۱پھر زنجیر سے جس کی ناپ ستر گز ہے جکڑ دو ﴿۳۲یہ نہ تو خدائے جل شانہ پر ایمان لاتا تھا ﴿۳۳اور نہ فقیر کے کھانا کھلانے پر آمادہ کرتا تھا ﴿۳٤سو آج اس کا بھی یہاں کوئی دوستدار نہیں ﴿۳۵اور نہ پیپ کے سوا (اس کے لئے) کھانا ہے ﴿۳٦جس کو گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا ﴿۳۷تو ہم کو ان چیزوں کی قسم جو تم کو نظر آتی ہیں ﴿۳۸اور ان کی جو نظر میں نہیں آتیں ﴿۳۹کہ یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے ﴿٤۰اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں۔ مگر تم لوگ بہت ہی کم ایمان لاتے ہو ﴿٤۱اور نہ کسی کاہن کے مزخرفات ہیں۔ لیکن تم لوگ بہت ہی کم فکر کرتے ہو ﴿٤۲یہ تو) پروردگار عالم کا اُتارا (ہوا) ہے ﴿٤۳اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے ﴿٤٤تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے ﴿٤۵پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے ﴿٤٦پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا ﴿٤۷اور یہ (کتاب) تو پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے ﴿٤۸اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اس کو جھٹلانے والے ہیں ﴿٤۹نیز یہ کافروں کے لئے (موجب) حسرت ہے ﴿۵۰اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق قابل یقین ہے ﴿۵۱سو تم اپنے پروردگار عزوجل کے نام کی تنزیہ کرتے رہو ﴿۵۲
سورة الحاقة
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اَلۡحَـآقَّةُۙ‏ ﴿۱مَا الۡحَـآقَّةُ‌ۚ‏ ﴿۲وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الۡحَــآقَّةُؕ‏ ﴿۳كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ وَعَادٌۢ بِالۡقَارِعَةِ‏ ﴿٤فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ‏ ﴿۵وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍۙ‏ ﴿٦سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰىۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ‌ۚ‏ ﴿۷فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۡۢ بَاقِيَةٍ‏ ﴿۸وَجَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَمَنۡ قَبۡلَهٗ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ بِالۡخَـاطِئَةِ‌ۚ‏ ﴿۹فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّهِمۡ فَاَخَذَهُمۡ اَخۡذَةً رَّابِيَةً‏ ﴿۱۰اِنَّا لَمَّا طَغَا الۡمَآءُ حَمَلۡنٰكُمۡ فِىۡ الۡجَارِيَةِۙ‏ ﴿۱۱لِنَجۡعَلَهَا لَـكُمۡ تَذۡكِرَةً وَّتَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ‏ ﴿۱۲فَاِذَا نُفِخَ فِىۡ الصُّوۡرِ نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ ۙ‏ ﴿۱۳وَحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَ الۡجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً ۙ‏ ﴿۱٤فَيَوۡمَٮِٕذٍ وَّقَعَتِ الۡوَاقِعَةُۙ‏ ﴿۱۵وَانْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِىَ يَوۡمَٮِٕذٍ وَّاهِيَةٌۙ‏ ﴿۱٦وَالۡمَلَكُ عَلٰٓى اَرۡجَآٮِٕهَا‌ؕ وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَٮِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ ؕ‏ ﴿۱۷يَوۡمَٮِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ‏ ﴿۱۸فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِىَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖۙ فَيَقُوۡلُ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ‌ۚ‏ ﴿۱۹اِنِّىۡ ظَنَنۡتُ اَنِّىۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ‌ۚ‏ ﴿۲۰فَهُوَ فِىۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍۙ‏ ﴿۲۱فِىۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ‏ ﴿۲۲قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ‏ ﴿۲۳كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا هَنِيۡٓــًٔاۢ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِىۡ الۡاَيَّامِ الۡخَـالِيَةِ‏ ﴿۲٤وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِىَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ ۙ فَيَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِىۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ‌ۚ‏ ﴿۲۵وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ‌ۚ‏ ﴿۲٦يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ‌ۚ‏ ﴿۲۷مَاۤ اَغۡنٰى عَنِّىۡ مَالِيَهۡۚ‏ ﴿۲۸هَلَكَ عَنِّىۡ سُلۡطٰنِيَهۡ‌ۚ‏ ﴿۲۹خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُۙ‏ ﴿۳۰ثُمَّ الۡجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُۙ‏ ﴿۳۱ثُمَّ فِىۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسۡلُكُوۡهُؕ‏ ﴿۳۲اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِۙ‏ ﴿۳۳وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِؕ‏ ﴿۳٤فَلَيۡسَ لَـهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا حَمِيۡمٌۙ‏ ﴿۳۵وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍۙ‏ ﴿۳٦لَّا يَاۡكُلُهٗۤ اِلَّا الۡخٰطِئُوْنَ‏ ﴿۳۷فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَۙ‏ ﴿۳۸وَمَا لَا تُبۡصِرُوۡنَۙ‏ ﴿۳۹اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍۚ ۙ‏ ﴿٤۰وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٍ‌ؕ قَلِيۡلاً مَّا تُؤۡمِنُوۡنَۙ‏ ﴿٤۱وَلَا بِقَوۡلِ كَاهِنٍ‌ؕ قَلِيۡلاً مَّا تَذَكَّرُوۡنَؕ‏ ﴿٤۲تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿٤۳وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَيۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِۙ‏ ﴿٤٤لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ‏ ﴿٤۵ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ ۖ‏ ﴿٤٦فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حَاجِزِيۡنَ‏ ﴿٤۷وَاِنَّهٗ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ‏ ﴿٤۸وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ‏ ﴿٤۹وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿۵۰ وَاِنَّهٗ لَحَـقُّ الۡيَقِيۡنِ‏ ﴿۵۱فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ‏ ﴿۵۲
Best Viewed in Internext Explorer and Best Resolution : 1024 x 768

0 comments:

Post a Comment